تحریر: خوشبو ناز جامعہ المصطفی کراچی
حوزہ نیوز ایجنسی| کتنی صدیوں سے ہر سال ایک ہی سوال پوچھا جارہا ہے کہ آپ لوگ ماتم کیوں کرتے ہیں؟؟ اور شاید ہمیں جواب دینا نہیں آیا جو یہ سوال آج بھی پوچھا جاتا ہے یا ہم اتنا ماتم کرتے ہیں کہ کسی کو اور کچھ سنائی ہی نہیں دیتا۔ جو لوگ کہانیاں دیکھ اور سن کر رو پڑتے ہیں ان کے دل عزاداری کے وقت پتھر کیوں ہو جاتے ہیں؟
دور حاضر میں جب مجالس اور عزاداری اپنے عروج پر ہے ہر ایک انسان خواہ وہ کسی بھی ملک و مذہب سے ہو کربلا اور امام حسین علیہ السلام کے مقصد سے آشنا ہے۔
مگر پھر یہ اتنی ساری برائیاں معاشرے میں کیوں؟
فتنہ فساد، حرام محمد حلال، حلال محمدی حرام آج بھی کیوں؟
جنسی جنگ اولویت پر کیوں ؟
وقت کے حسین (عج) آج بھی تنہا کیوں ؟
ان سارے سوالوں کے جواب کربلا کے پاس ہیں۔ مگر ہمارے معاشرے نے کربلا کو درک نہیں کیا۔
کربلا ایک درسگاہ ہے وہ درسگاہ جہاں ہم انسان بننا سیکھتے ہیں جہاں سے ہمیں توبہ کرنے کی وجہ ملتی ہے یزیدیت کے سامنے تنہا ہوتے ہوئے بھی حوصلہ اور ہمت سے حق و انصاف پر قائم رہنا سکھاتے ہیں امام حسین۔
جیسے ہی محرم الحرام کا چاند نظر آتا ہے معاشرے میں کچھ سرگرمیاں شروع ہوجاتی ہیں خواہ وہ حقیقی ہوں یا مجازی پوری قوت سے ہر انسان کوشش کرتا ہے اس سال پچھلے سال سے کچھ زیادہ، بہتر اور نئے انداز میں عزاداری کرے۔ پھر ہم دیکھیں گے کہ ہماری عزاداری ہر سال کتنے لوگوں کو بیدار کرتی ہے اور کتنوں کو یزید کو للکارنے کی ہمت دیتی ہے ؟
یہاں بہت سارے منفی ردعمل دینے والوں کا بھی ہجوم ہوتا ہے جو بس کسی طرح خود کو صحیح اور عزاداری کو غلط ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ کچھ برین واشڈ لوگ بھی ہوتے ہیں جو بات کو سننا بھی نہیں چاہتے جو مان چکے وہ مان چکے اور قوت قبولیت حقیقت سے محروم ہو جاتے ہیں۔
غرض یہ کہ محرم الحرام صرف عاشورہ نہیں ایک نئی کربلا لاتا ہے جو ہمیں ہمارے معاشرے کا آئینہ دکھاتی ہے کہ دیکھیں اگر کربلا آج بھی برپا ہوتی تو انجام کو بیش یہی ہونا تھا جو اکسٹھ ہجری کو ہوا۔ اگر آج ہمارے حسین ہم سے مدد مانگیں تو ہم کیا کریں گے۔
وجہ، ہمارا معاشرہ مقابلے اور ماتم میں اخلاقی مظاہرہ کربلا بھول چکا وہ مقصد جس کا کربلا سے آغاز ہوا وہ ہم تک نہیں پہنچ سکا۔
ہم جتنا چاہے دشمن کو الزام دیں جتنا چاہے فرقے پسند لوگوں سے ناپسندیدگی کا اظہار کریں مگر!! غلطیاں ہم سے ہوئی ہیں ہماری کربلا تھی ہم نے حفاظت کرنی تھی اسکی۔ ہم صرف اپنے عقیدے میں کھوئے رہے ہم نے یزید کو للکارنا کم کردیا اور اپنے موقف کو اپنے تک محدود کرلیا۔
جنت دوزخ اور ثواب و عقیدت اور بس! نہیں!
یہ مقصد تھا ہی نہیں عزاداری کا، عزاداری ہماری دنیا میں تربیت، کردار سازی اور تزکیہ نفس کے لیے ہے۔
کربلا میں جو واقعات ہوئے ہی نہیں تھے انکی رسومات آج بھی ہمارے معاشرے میں رائج ہیں اور کوئی سوال نہیں کوئی مزاحمت نہیں!
کاش کہ ہم صرف اتنا کرپائیں کہ اگلی دفعہ کوئی مجلس میں آنے سے ہچکچاہٹ اور الجھن محسوس نہ کرے۔ مصائب و فضائل سے دوگنا وقت مقصد کربلا بیان کرنے میں صرف کریں، تاکہ یہ بچے جو آج دس سال کے ہیں اگلے دس سالوں میں معاشرے کے بہترین انسان بن جائیں۔









آپ کا تبصرہ